Renumeration for Leading Tarāwīḥ Ṣalāh

Question:

I am a hafiz. I have been invited to a masjid to lead tarawih salah only. This masjid normally gives the huffaz money at the end of the month. Am I allowed to take it? Someone told me it is not permissible. Kindly answer.

(Question published as received)

الجواب باسم ملهم الصواب

It is not permissible to accept remuneration for leading tarāwīḥ ṣalāh. You should excuse yourself in the event of it being offered to you. [i]

And Allāh Ta‘ālā Knows Best

(Mufti) Bilal al-Mahmudi

30 Sha‘bān 1440 / 06 May 2019


[i]

قال ابن عابدين: (قوله ولا لأجل الطاعات) الأصل أن كل طاعة يختص بها المسلم لا يجوز الاستئجار عليها عندنا لقوله (عليه الصلاة والسلام): «اقرءوا القرآن ولا تأكلوا به» وفي آخر ما عهد رسول الله (صلى الله عليه وسلم) إلى عمرو بن العاص: «وإن اتخذت مؤذنا فلا تأخذ على الأذان أجرا» ولأن القربة متى حصلت وقعت على العامل ولهذا تتعين أهليته، فلا يجوز له أخذ الأجرة من غيره كما في الصوم والصلاة هداية. (رد المحتار: ج ٦، ص ٥٥. دار الفكر)

سؤال: رمضان میں ختم قران پر قاری اور سامع اگر کچھ معاوضہ طے نہ کرں، ویسے ہی اہل مسجد انکی کچھ خدمت کردیں یا کپڑوں کا جوڑا بنادیں تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب باسم ملهم الصواب

 خدمت کے نام سے نقد یا کپڑے وغیرہ دینا بھی معاوضہ ہی ہے اور اجرت طے کرنے کی بنسبت زیادہ نہیں ہے، اس لئے کہ اس میں دوگناه ہیں، ایک قرآن سنانے پر اجرت کا گناہ اور دوسرا جہالت اجرت کا گناه.

بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاری اور سامع بھی للہ کام کرتے ہیں اور ہم بھی للہ انکی خدمت کرتے ہیں معاوضہ مقصود نہیں، ایسے حیلہ بازوں کی نیت معلوم کرنے کے لئے حضرات فقہاء رحمہم اللہ تعالی نے یہ امتحان رکھا ہے کہ اگر قاری اور سامع کو کچھ بھی نہ ملے تو وہ آئندہ کبھی اس مسجد میں خدمت کے لئے آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں؟ اور اہل مسجد کا امتحان یہ ہے کہ اگر یہ قاری اور سامع انکی مسجد میں نہ آئیں تو بھی یہ لوگ ان کی خدمت کرتے ہیں یا نہیں؟ اب دور حاضر کے لوگوں کو اس کسوٹی پر لائے، قاری اور سامع کو اگر کسی مسجد سے کچھ نہ ملا تو آئندہ وہ اس مسجد کی طرف رخ بھی نہیں کرینگے اور اھل مسجد کا یہ حال ہے کہ جب قاری یاسامع نے ان کی مسجد میں کام نہیں کیا وہ خواہ کتنا ہی محتاج ہو ان کو اسکی زبوں حالی پر قطعا کوئی رحم نہیں آتا، اس سے ثابت ہوا کہ جا نبین کی نیت معاوضہ کی ہے اور للہیت کے دعوے میں جھوٹے ہیں، لہذا اس طرح سننے اور سنانے والے سب سخت گنہگار اور فاسق ہیں، اور ایسے قاری کی امامت مکروہ تحریمی ہے۔

فرائض میں فاسق کی امامت کا یہ حکم ہے کہ اگر صالح امام میسر نہ ہو یا فاسق امام کو ہٹانے کی قدرت نہ ہو تو اسکی اقتداء میں نماز پڑھ لی جائے ترک جماعت  جائز نہیں مگر تراویح کا حکم یہ ہے کہ کسی حال میں بھی فاسق کی اقتداء میں جائز نہیں، اگر صالح حافظ نہ ملے تو چھوٹی سورتوں سے تراویح پڑھ لی جائیں اگر محلہ کی مسجد میں ایساحافظ تراویح پڑھائے تو فرض مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کر کے تراویح الگ مکان میں پڑھیں. بالفرض کسی قاری کا مقصود معاوضہ نہو تو بھی لین دین کے عرف کی وجہ سے اسکی توقع ہوگئی اور کچھ نہ ملنے پر افسوس ہوگا، یہ اشراف نفس ہے جو حرام ہے۔

اگرکسی قاری کو اشراف نفس سے بھی پاک تصور کر لیا جاۓ تو بھی اس لین دین میں عام مروج فعل حرام سے مشابہت اور اس کی تائید ہوتی ہے علاوہ ازیں دینی غیرت کے بھی خلاف ہے، اس لئے بہر کیف اس سے کلی اجتناب واجب ہے، فقط والله الموفق. (أحسن الفتاوى: ج ٣، ص ٥١٤. سعيد)

(محمود الفتاوى: ج ٣، ص ٩١-٩٤. مكتبة محمودية، ڈابھیل)